مسلم نسل کشی پر عمر قید کاٹنے والے بوسنیا کے قصاب کی فوجی اعزاز کیساتھ آخری رسومات

8

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 84 سالہ رَتکو ملادیچ کی میت پیر کو سربیا کے دارالحکومت بلغراد کے سینٹ لیوک چرچ میں آخری دیدار کے لیے رکھی گئی جہاں ہزاروں افراد اس کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پہنچے۔

سرب النسل سابق فوجی کمانڈر رتکو ملادیچ کی لاش تابوت میں رکھی گئی جبکہ اس کی فوجی ٹوپی اور تلوار بھی تابوت کے ساتھ رکھی گئی۔ فوجی وردیوں میں ملبوس اہلکار تابوت کے اطراف موجود رہے۔

سربیا کے حکومت نواز ذرائع ابلاغ کے مطابق ملادیچ کو مکمل فوجی اعزاز دیا جائے گا جبکہ سرب آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ پیٹریارک پورفیریے آخری رسومات کی مذہبی تقریب کی قیادت کریں گے۔

رَتکو ملادیچ کو بوسنیا کی جنگ کے دوران اس کے کردار اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل میں ملوث ہونے کی وجہ سے بوسنیا کا قصاب کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود سربیا میں قوم پرست حلقوں کا ایک طبقہ آج بھی اسے ہیرو سمجھتا ہے۔

جنازے میں شامل سرب افراد کا کہنا تھا کہ رتکو ملادیچ نے اپنی پوری زندگی سرب عوام کے لیے وقف کردی تھی جب کہ بلغراد میں فٹ بال میچ کے دوران شائقین نے ملادیچ کی بڑی تصویر کا بینر آویزاں کیا اور اس کے نام کے نعرے لگائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں